حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں شہید آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی دوسری برسی کی تقریب کے موقع پر آیت اللہ العظمیٰ نوری ہمدانی کا تفصیلی پیغام جاری کیا گیا، جس کا متن حسب ذیل ہے:
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ، وَ الصَّلَاةُ وَ السَّلَامُ عَلَی سَیِّدِنَا وَ نَبِیِّنَا أَبِی الْقَاسِمِ الْمُصْطَفَی مُحَمَّدٍ، وَ عَلَی أَهْلِ بَیْتِهِ الطَّیِّبِینَ الطَّاهِرِینَ، سِیَّمَا بَقِیَّةِ اللَّهِ فِی الْأَرَضِینَ، وَ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَی أَعْدَائِهِمْ أَجْمَعِینَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ.
تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو ہمارے سردار، ہمارے نبی حضرت ابوالقاسم محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر، نیز آپ کے پاک و پاکیزہ اہل بیت علیہم السلام پر، خصوصاً روئے زمین پر اللہ کی حجت حضرت بقیۃ اللہ الاعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف پر، اور قیامت تک ان کے تمام دشمنوں پر اللہ کی لعنت ہو۔
اس باوقار اجتماع کی خدمت میں سلام و تہنیت پیش کرتا ہوں جو اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک خدمت گزار اور ممتاز شخصیت، حجۃ الاسلام والمسلمین آقای رئیسی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی یاد میں منعقد کیا گیا ہے۔
اسلامی مکتب میں انسانوں کی قدر و منزلت کے لیے کچھ معیارات بیان کیے گئے ہیں جن میں سب سے اہم خداوند متعال پر ایمان اور عمل میں اخلاص ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اہل ایمان کے کردار اور طرزِ زندگی میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ سماجی زندگی میں بھی سب سی برتر عبادت وہ ہیں جو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رضا کا سبب بنتی ہیں۔
اسی بنیاد پر اللہ سے قرب حاصل کرنے کے اہم ترین اسباب میں سے ایک عوام کی خدمت ہے، یعنی انسان اس انداز میں زندگی گزارے کہ اس کا وجود بندگانِ خدا کے لیے خیر و منفعت کا ذریعہ بن جائے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ان سے بڑھ کر کوئی بھلائی نہیں: اللہ پر ایمان اور بندگانِ خدا کو نفع پہنچانا۔"
ایک اور مقام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب انسان کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: "لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔"
مرحوم آیت اللہ رئیسی انہی شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی رضائے الٰہی کے لیے جدوجہد میں گزاری، اخلاصِ عمل کو ہمیشہ اپنا شعار بنائے رکھا اور اپنے آپ کو مکمل طور پر عوام کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
انہوں نے خدمت کے دشوار راستوں میں کبھی تھکن کو اپنے قریب نہیں آنے دیا اور ہمیشہ اسلام اور انقلاب کے مفادات کو پیش نظر رکھا۔ وہ عوام کی خدمت میں شب و روز نہیں دیکھتے تھے۔ خداوند متعال پر ایمان کے آثار ان کی شخصیت میں اس طرح نمایاں تھے کہ وہ کبھی دشمن کے سامنے سر نہیں جھکاتے تھے، لیکن عوام کے سامنے نہایت عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتے تھے۔
ولایت سے وابستگی، شہداء کے خون سے وفاداری، امام راحل کے اہداف اور مقام معظم رہبری کی پیروی کے معاملے میں ان کے دل میں کبھی کسی قسم کا تردد پیدا نہیں ہوا، اور زندگی کے آخری لمحے تک خود کو ایک سادہ اور عام طالب علم ہی سمجھتے رہے۔
دنیاوی عہدوں اور مناصب نے ان کی روحانی کیفیت پر کوئی اثر نہیں ڈالا، بلکہ ان کی زندگی کے تمام مراحل میں اخلاص اور تقویٰ نمایاں رہا۔ عدلیہ میں خدمات، آستان قدس رضوی میں خدمت گزاری اور پھر منصبِ صدارت، ہر جگہ انہوں نے ملک کی سربلندی اور ترقی کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔
میں گزشتہ چالیس برس سے زائد عرصے سے اس شخصیت کو جاننے کی بنیاد پر گواہی دیتا ہوں کہ انہوں نے خدمت کے راستے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کیا، اور آخرکار عوام کی خدمت اور اپنے فریضے کی ادائیگی کے دوران شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔
اس بااخلاق اور وارستہ انسان کی تجلیل یقیناً ایک شایستہ اور بجا اقدام ہے، اور ضروری ہے کہ ان کی ماندگار اور قیمتی خدمات کو عوام کے سامنے بیان کیا جائے۔
آخر میں، میں اس تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں کہ وہ سب کو مزید توفیقات عطا فرمائے۔
28 اردیبهشت 1405 ھ ش
حسین نوری ہمدانی
(شہادت سے چند روز قبل کی گئی تصاویر)









آپ کا تبصرہ